ڈاکٹر سیدتقی عابدی کی ویب سائٹ پر آپ کا استقبال ہے
                

شاہ بانو میر ڈاکٹر تقی عابدی


مری روشنائی میں نور دے

مری فکر کو وہ شعور دے

کہ لکھوں تو مجھ پہ ہوں منکشف

مرے صدقِ دل کی عبارتیں

مرے لفظ لفظ سے ہوں عیاں

مرے جذبِ دل کی صداقتیں

میں عقیدتوں کا بیاں لکھوں

میں محبتوں کی زباں لکھوں

(فاطمہ حسن)


کبھی کبھار جب موقعہ ملے کوئی نادر کتاب ہاتھ میں لینے کا تو اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کوئی ایسی تاریخی داستان تحریر ہو جس میں ماضی کے دریچے وا ہو جائیں ـ مجھے بہت دور فضاؤں میں سفر کرتے ہوئے اس مقام پے اڑن کھٹولہ جا اتارے یا پھر اڑن قالین مجھے ہوا کے دوش پےدور بہت دور بہت سے ادوار میں سے گزارتا ہوا اس قدیم دور میں لے جائے"" جہاں مدرسے میں خستہ حال شاگرد بھوک سے نقاہت کا شکار ہوں ـ علم کی پیاس علم کی طلب اتنی انتہا پے ہو کہ کہ سیکڑوں کوس دور سے بے سرو سامانی میں طویل و عریض صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے راستے کی مشکلات سے قطع نظر خطرات کا سامنا کرتے ہوئے وہ یہاں تک پہنچے ہوں ـ اور اپنے مرشد کے حضور ادب سے یوں خاموش ہو کر انہماک سے اپنے اسباق کو ازبر کر رہے ہوں"" ـ نجانے کیوں مجھے وہ واقعات وہ کہانیاں وہ داستانیں جن میں ایسے طالبعلموں کا ذکر ہوتا ہے ـ جو با ادب ہوتے ہیں دور دراز سے حصولِ علم کی خاطر جان ہتھیلی پے رکھ کر سالہا سال دشت و صحرا کی کی خاک چھانتے ہوئے کسی استاد تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ـ جن سے وہ اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں ـ نجانے کیوں ایسی ہی شاگرد بننا چاہتی تھی جو کسی ادبی استاد سے فیض حاصل کر سکے ـ سوچ میں استاد کا تصور آتے ہی وہ شاگرد نگاہوں میں آجاتا تھا جن کی سوچ میں علم کو حاصل کرنا اولین خواہش تھی ـ دور دراز کی مسافتیں ہوں بے سرو سامانی ہو کسی خوف کا کسی حادثے کا ڈر نہ ہو ـ لگن ہو تو بس یہی علم حاصل کرنا ہے ـ یہ طلب یہ خواہش اس وقت جو لوگ رکھتے تھے ان کے علمی قد آج بھی بہت بلند ہیں وجہ یہی ہے کہ وہ علم کی اصل قدر جانتے ہیں اصل اہمیت سے آشنا ہیں ـ نجانے کیوں میں آج تک منتظر رہی کوئی ایسی شخصیت ضرور ملے گی جس کو دیکھ کر دل صدا دے کہ یہ وہی ہے جس کیلیۓ کبھی لوگ دور دراز کا سفر طے کرتے تھے ـ یہ وہی بلند قامت ہستی ہے جو اپنے علم کے خزانے کو بڑی فراخدلی سے سب میں بِلا تخصیص بانٹتی ہے ـ یہ سوچ یہ احساس ہمیشہ ہی رہا ـ لیکن جن علمی ہستیوں سے ملنے کا شرف حاصل ہواـ ان میں صرف ایک خاتون ایسی ہیں ـ جو واقعی فرانس کی علمی دنیا کے مستقبل کا چمکتا دمکتا ستارہ ہیں شاعری میں بھی اور تحریر میں بھی ـ میں ان کی شاعری ان کی تحریر کی مضبوطی کی دل سے قائل ہوں ـ آج بھی وہی سوچ رکھتی ہوں ـ ان کی سوچ کی پختگی اور تحریر کی بے ساختگی ان کوادبی سیاست سے نکال دے تو شائد اس وقت ہم سب میں وہ شاعری٬ تحریر کے حوالے سے بہترین خاتون ہیں ـ میں نے لکھنے کا غاز کیا تو اللہ کی رحمت رہی کہ تحریر میں باوجود ہزار کمزوریوں کے سب نے حوصلہ افزائی کی ـ جس سے حوصلہ ذرا بڑہا ـ میں لکھتی ہوں لوگ پڑھتے ہیں لیکن اندر کہیں ضمیر یہ ملامت ضرور کرتا رہتا ہے کہ ہر اچھی تحریر کیلیۓ کسی ناقد کا کسی استاد کا ہونا ضروری ہے ـ ادبی استاد سے میں محروم ہوں ابھی تک شائد اس لئے کہ بد نصیبی سے ادبی دنیا میں مثبت رویے کم ہیں جو اردو ادب کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہےـ جس دن ہم سب نے "" میں "" کو کہیں دفن کر کے سچے ادب کے پیروکار ہونے کا اعزاز سمجھ لیا اس دن ہم سب نہ صرف سچ میں ادب کی خدمت کرنے کے لائق ہوگےـ بلکہ واقعی کوئی ایسا سچا کام کر جائیں کہ ہمیں بھی کسی گوشے میں ذرا سی جگہہ مل جائے مگر !! موجودہ مافیا نظام میں ادب کی نشونما ناممکن دکھائی دیتی ہے ـ اور اس ادبی ناسور کی تیزی سے ہوتی پرورش کو ڈاکٹر صاحب بہت باریک بینی سے محسوس کر چکے ہیں ـ والدہ محترمہ پنجابی میں فرماتی ہیں ہمیشہ کہ نیتاں صاف تے بیڑے پار اور سچائی کا انعام باوجود مسائل کے ہمیشہ ملتے دیکھا ہے ـ اورمجھے گھر بیٹھے پیرس پہنچتے ہی ڈاکٹر تقی صاحب سے بات کرنے کا موقعہ ملا تو ان کے ساتھ ایک نشست رکھنے کا اعزاز نصیب ہوا یہ میرے رب سوہنے نے مجھے عزت عطا فرمائی اور اپنی جناب سے انعام دے کر در اصل یہ پیغام پھر سے یاد کروایا ـ اللہ جِسےچاہے عزت دے اور جِسے چاہے ذلت دے ـ 31 اگست کی صبح ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا وقت طے ہوا تھا ـ جس میں پاک پریس کلب کے صدر محترم شبیر بھدر صاحب خالد بشیر صاحب محترمہ طاہرہ شہزاد مہک نعیم ا ور میں شامل تھے ـ روزنامہ جذبہ کے مالک اعجاز حسین پیارا صاحب کی اسی صبح اٹلی کیلیے فلائٹ تھی اس وجہ سے وہ شرکت نہیں کر سکے ـ دی جذبہ کے چئیرمین محترم اعظم چوہدری ایک روز قبل نجی دورے پے لندن تشریف لے گئےـ جس کی وجہ سے وہ بھی شامل محفل نہ ہو سکے ـ عاصم ایاز پاک پریس کلب کا معروف نام وہ وقت پر نہی پہنچ پائے ـ بہت اچھی ادبی نشست سے محروم رہ گئے ـ ڈاکٹر صاحب کے دیے ہوئے وقت کے مطابق ٹھیک ٹائم پے ہم پہنچ گئے تھے ـ ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ فون آمد کی اطلاع دی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم باہر ہی رکیں وہ خود تشریف لا رہے ہمارے استقبال کیلیۓ ـ بہت بڑی بات تھی ہمارے لئے ـ پھر فورا ہی ڈاکٹر صاحب نمودار ہوئے جس تپاک سے وہ شبیر بھائی اور خالد بھائی کو ملے اور جس گرمجوشی سے ان اصحاب سے مصافحہ کیا بغلگیر ہوئے وہ تمام انداز سادگی عاجزی کے مظہر تھے ـ ہم سب ان کی معیت میں ہوٹل کے اندر داخل ہوئے لابی میں بیٹھتے ہی گفتگو کا بے تکلفانہ دور شروع ہوا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اتنی بڑی ہستی سے پہلی بار ملاقات کر رہے ہیں ـ ڈاکٹر صاحب کا خود اٹھ کر جانا بار بار کھانے کیلیۓ اصرار کرنا اور آرڈر کر کے چند سپیشل چیزوں کا بنوانا بہت بھلا لگ رہا تھا ـ کہ وہ پیرس کے مہمان تھےـ لیکن آج صبح ہمارے میزبان بنے ہوئے تھےـ کافی کے کئی دور چلے کسی کی محویت میں اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی کوئی فرق نہیں آیا ـ ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ ہمارے لئے وقت کی کوئی قید نہیں ہے ہم جتنا چاہیں ان کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں ـ ان کی خوش گفتاری مہمان نوازی نے ہماری ساری ٹیم کے دل جیت لئے ـ میں جو ورق ورق کھوجتی تھی کسی کی تحریر کو کسی کے انداز کو اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ ایک دن ایسے اوصاف کی حامل تاریخی ہستی مجسم سامنے موجود ہوگی سوچا نہ تھا ـ ڈاکٹر تقی عابدی طب کی دنیا کے طبیب اور ادب کی دنیا کے مریض وہ اقبال پے فیض پے گفتگو فرما رہے تھے ـ ہم سب ساکت مِؤدب خود کو ٹاٹ جیسےکسی کھردرے کپڑے پے بیٹھے ہوئے انہی شاگردوں کی طرح محسوس کر رہے تھےـ ہم سب کی زبانیں خاموش لب ساکت اور آنکھوں کی پتلیاں ان کے چہرے پے مرکوز تھیں ـ کالج لائف میں کئی لیکچرار دیکھے ـ کسی کا اندازِ بیاں خوبصورت لگتا تب بھی 40 منٹ کے پیریڈ میں 35 منٹ کے بعد نظریں کلائی پے بندھی گھڑی کا مسلسل طواف کرتی رہتیں اور وہ آخری 5 منٹ جیسے اتنے مشکل اور طویل ہو جاتے تھے کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے ـ لیکن آج کی نشست آج کی یہ ادبی گفتگو نے پہلی بار بتایا کہ اردو کو ادب کے ساتھ کیوں مستقل جوڑا گیا ہے ـ اگر اردو وہ ہے جو ہمارا ادب ہے تو میں آج انکاری ہوں اگر اردو وہ ہے جو آجکل یورپ بھر میں کچے حرفوں سے پہلی دوسری جماعتوں کے بچوں کی تختیوں پے لکھا جا رہا ہے تو میں معذرت چاہوں گی میں نہیں مانتی ـ میں تو ہمیشہ لکھتی ہوں ہم سب مجھ سمیت""بونے"" ہیں ـ اردو کی فصاحت اردو کی بلاغت اردو کی نزاکت اردو کی ذہانت کیسے بوند بوند شیریں کلام ہمارے کانوں میں رس جیسے گھل رہی تھی یہ ہے اصل اردو یہ ہے وہ شیریں زباں یہ ہے وہ اردو جس کو رشکِ چمن کہا گیا ـ ڈاکٹر صاحب کا ساحرانہ اندازِ بیاں اور اس پر ہال میں کی گئی دھیمی دھیمی روشنی جس نے ماحول کو مزید خوبصورت اور پُر اثر بنا دیا ـ ان کا دلنشیں انداز اردو کی محرومیوں کا گِلہ اقبال کے ساتھ کی گئی زیادتیوں پے احتجاج فیض کو نہ سمجھنے کا شکوہ الغرض کونسا ایسا پہلو تھا جو ہماری سماعتوں سے اوجھل رہا ـ ادبی شخصیت !! ادب اوڑھنا بچھونا کسی سے ملال نہیں کسی کی پرواہ نہیں اپنے کام میں بہترین مقام پے کھڑے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ منزل حاصل کرنی ہے اور کامیاب ہونا ہے تو حسد نفرت کینہ تعاقب تحریری سیاست سب چھوڑنی ہوگی ـ ادب کو ادب سمجھ کر خدمت کرنی پڑے گی تب کہیں جا کر شائد ڈاکٹر تقی عابدی جیسا نام مل سکے ـ ڈاکٹر صاحب کیلئے اگر گستاخی نہ ہو تو کہنا چاہوں گی کہ سنا تھا ـ"" رانجھا رانجھا کوکدی نی میں آپے رانجھن ہوئی رانجھن رانجھن منوں سب کوئی آکھو ہیر نہ آکھو کوئی " ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں اقبالیات جاوید نامہ فیض ایسے حلول ہو چکے ہیں کہ ان کی زبان میں عام اردو اب نشونما نہیں پاسکتی انتہائی نفیس اردو قدرے مشکل الفاظ خوبصورت تشبیہات نفیس استعاروں کے ساتھ جب وہ گفتگوکا آغاز کرتے ہیں تو ان کی ذات اقبال کی شاعری کا کوئئ شہہ پارہ دکھائی دیتی ہے ـ اقبال کے دکھ ان کے لہجے کے دھیمے پن سے آپ محسوس کر سکتے ہیں ـ اقبال کو کافر قرار دینا اور ان کے ساتھ سر کے خطاب کے بعد مراسم بڑہانا کئی واقعات کمال خوبصورتی سے ہم نے زندگی میں پہلی بار سنےـ اقبال کو بانٹیں مت اقبال انڈیا پاکستان دونوں کا ہے ـ یہ ڈاکٹر صاحب کی درخواست ہے ـ ان کا اندازِ بیاں ناقابلِ بیاں ٬ الفاظ کا چناؤ کمال کاش وہاں لیپ ٹاپ لے جاتی تو ساری گفتگو ٹائپ کرتی اور یہ گفتگو بغیر کسی پروف ریڈنگ کے ایسی شاندار تاریخی کتاب بنتی کہ میں بھی خود پر فخر کر سکتی تھی ـ لیکن افسوس ہم پاکستانی لوگ اکثر موقعے کی اہمیت کے لحاظ سے دوسرے معاملات پے زیادہ نظر رکھتے ہیں ـ ضروری اور فوری اہمیت کی حامل اکثر باتوں کو ہمیشہ ہی بھول جاتے ہیں ـ تو بات ہو رہی تھی ذکر کی اندازِ بیاں کی علم کی بہتی ہوئی ایسی آبشار کی جس کے بہاؤ میں ترنم تھا نغمگی تھی کیفیت تھی ـ فیض فہمی میں ان کے تحریر کردہ آرٹیکلز کو پڑھنے کیلیۓ پہلے اپنی ہمت کو مجتمع کروں گی تب شائد فیض فہمی کو کھول سکوں ـ ان کی تحریر کس قدر سحر انگیز ہوگی وہ تو میں جب خود کو ذہنی طور پے ان کی تحریر کے قابل کر لوں تب دیکھوں گی ـ ان کا ملاقات کیلیۓ اصرار خود کتاب دینا اور پھر ایسی لاجواب ایسی شاندار نشست کہ میں تو آج تک اسی سحر سے نہیں نکل پا رہی ـ استاد ماضی میں ہوں گے تو ان کے خدو خال ان کی شخصیت ان کا انداز ایسا ہی منفرد ایسا ہی مشفقانہ ایسا ہی دلکش ہوگا کہ علم کے دریا میں جتنا گہرا اترنا چاہو ـ غوطہ لگاؤ اور جو سیپ مقدر میں ہے اسے باہر لے آؤ ـ میں نے انکے اکثر ارشادات کو تحریر کر لیا تین گھنٹے تک جاری رہنے والا ان کا یہ علمی بیان اپنے اندر لاتعداد وسعتیں لئے ہوئے تھا ـ اقبال پر کی گئی ان کی تحقیق کئی دہائیوں پے محیط ہے ـ وہ جو بول رہے تھے وہ اردو کی عام فہم زبان نہیں تھی یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ سامنے کوئی مشکل پرانی اردو کی کتاب رکھ کر اس کو سنا رہے ہیں ـ ایسی روانی ایسی مہارت ایسی گفتگو پر مکمل گرفت مجال ہے کہیں لغزش ہوئی ہو کہیں انہیں جملہ کاٹ کر اسکو دوبارہ شروع کرنا پڑا ہو ـ کہیں اٹک کر اپنا ما فی الضمیر رک کر بیان کرنا پڑا ہو ـ ہماری اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ جن کو سننے کیلیۓ لوگ جوق در جوق پروگرام میں گئے ـ انہوں نے ہمیں یہ اعزاز بخشا اور فرمایا کہ وہ کتاب کسی کے حوالے نہیں کریں گے وہ میرے کام پے میری محنت پے وہ انعام مجھے دینا چاہتے ہیں ـ وہ اپنے ہاتھوں سے عنایت کریں گے ـ کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند کیوں نہ عاجزی پے اپنی ناز کرے ان کو ملنا ان کو سننا اور اتنا قریب سے ایسے سکون سے آمنے سامنے سننا زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ ہے ـ وہ جو ایک خلش تھی پرانے وقتوں کے بڑے بڑے علماء کرام کو دیکھنے کی ان کی مجلس میں شمولیت کی خواہش وہ پوری ہوگئی ـ یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ خواتین آجکل ادبی سیاسی صحافتی میدان میں ماشاءاللہ پوری آب و تاب سے اپنی صلاحیتوں کے ساتھ موجود ہیں تو کوئی محترمہ اس کو پڑھ کر غلط انداز میں نہ لیں کہ میں کسی شخص کی ایسے تعریف کر رہی ہوں ـ پہلے بھی ایک تحریر نظر سے گزری تھی میرے محترم قائد عمران کان کے متعلق کہ پی ٹی آئی کی خواتین ۔۔۔۔ اس بات کا جواب مختصر طور پے یہ دینا چاہوں گی کہ نا محرم نا محرم ہے ـ قائد کا لیڈر کا استاد کا احترام الگ انداز ہے " استاد اسلامی تعلیمات کا ہو ـ یا آپ کے ٹوٹتے ہوئے ملک کو بچانے کیلیۓ باہر نکلنے والا سیاسی قائد ہو ـ ہیں دونوں ہی نا محرم ـ مذہبی استاد کو اگر قریب بیٹھ کر سننا درست ہے ـ اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں ہے تو پھر سیاسی قائد کو ملک کے تحفظ اس کی سوچ کی بزرگی کے ساتھ سننا یا اس کے ساتھ بیٹھنا کوئی معیوب بات نہیں ہے ـ ان مسائل کی بجائے اچھا ہے کہ ہم اپنی توجہ اپنی علمی کاوشوں پے مرکوز کریں تاکہ کوئی صحتمند اور علمی کام ہو سکے ـ ڈاکٹر صاحب کا ایک پیغام بہت ضروری ہے جو اس آرٹیکل میں دوں گی باقی ان کی گفتگو کا خلاصہ اتنا مختصر نہی ہے جو یہاں سما سکے وہ مہینوں تک سلسلہ چلے گا کوشش کروں گی کہ علمی دریا کو اپنی بساط بھر ادنیٰ سی کوشش سے جو لکھا محفوظ کیا ہے اس کو احاطہ تحریر میں لاؤں تاکہ ان کی سوچ کی آفاقیت ہمارے زنگ آلود گھٹے ہوئے ذہنوں کے بندکواڑوں کو کھولنے کا باعث بن سکے ـ ابھی بہت ہمت مجتمع کرنی ہے تب کہیں جا کر یہ ممکن ہوگا کہ ان کی گفتگو کو میں تحریر کروں ڈاکٹر صاحب کا فرمانا تھا کہ وہ یورپ کے اس ٹور پے یہ بات محسوس کرتے ہیں ـ کہ اردو ادب کو سیاست نے نقصان پہنچایا ہے ـ اردو ادب سے وابسطہ لوگ اس مافیا سسٹم کی نذر ہو رہے ہیں ـ جو اردو زبان کیلیۓ ایک بڑا نقصان ہے ـ " اردو زبان کو خدارا سرحدوں میں حدوں میں محدود مت کریں یہ ایسا شجر ہے جس کا سایہ بلا تفریق ہندوستان اِور پاکستان کیلیۓ ہونا چاہیے" چار ارب سے زائد لوگ اس زبان کو سمجھتے ہیں لیکن موجودہ دور میں اردو زبان پر جو عتاب جو مشکل دکھائی دے رہی ہے وہ اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی ـ اس زبان کے ساتھ ظلم ہورہا ہے کہ اس کی اصل شکل اوٹ پٹانگ الفاظ کے بے ہنگم ملاپ سے کہیں دور پوشیدہ ہوتی جا رہی ہےـ اردو زبان کو ہم محلاتی زبان یعنی لاہور کی زبان مانتے ہیں اس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے ـ یہ سلسلہ جاری رہے گامختلف عنوان بنا کر ڈاکٹر صاحب کے لیکچر کو لکھنے کی ادنیٰ سی کوشش ضرور کروں گی ـ ڈاکٹر صاحب پیرس آمد پر آپ کا شکریہ کینیڈا سے میرے لئے فیض فہمی جیسی تاریخی کتاب جو بہت وزنی ہے اسکو فرانس تک لانے اور پھر اپنے دستِ مبارک سے مجھے دینے کیلیۓ از حد ممنون و مشکور ہوں ـ آ آپ پیرس میں مہمان تھے لیکن میری خوش بختی کہ آپ نے مہمان بنایا ـ نہایت ہی انکساری عاجزی مروت سے مہمان نوازی کی جو ہمیشہ یاد رہے گی ـ فیض فہمی پر میرے لیۓ بہت یادگار بہت خوبصورت انداز میں میرے لیے آپ کی گفتگو کو نوٹ بک میں کسی تابعدار شاگرد کی طرح محفوظ کر لیا ہے ـ آپ کی گفتگو کے نکات جب جب پڑہتی ہوں تو اس نشست کا ایک ایک لمحہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے ـ اپنی زندگی کو کسی بھی شعبے میں وقف کر دینے والا انسان کسی بھی شعبے میں ہو آپ کو اسے سننے کا موقعہ مل جائے تو آپ کو لگتا ہے جیسے آپ نے کونسا قارون کا خزانہ پا لیا ہے ـ ایسی ہی کیفیت میری بھی ہے ـ میری تحریروں کیلیۓ جو قیمتی الفاظ ڈاکٹر صاحب نے ادا کئے اور کہا کہ آجکل وہ میری تحریروں کوپڑھ رھے ہیں ـ اور جیسے میری حوصلہ افزائی کی کہ"" آپ خود نہیں جانتی ہیں کہ آپ کے قلم میں کتنا اثر ہے کتنی طاقت ہے ـ بِلاشبہ یہ الفاظ میرے لیۓ کسی بڑی سند سے کم نہیں ہیں "" جاری ہے